مابعد جدید دور میں کائنات اور کائناتی مظاہر کے بارے میں ایک خاص بیانیے کو رومانوی انداز میں اس یقین کے ساتھ پیش کرنا کہ یہی اصل ہے ایک کہانی کار کا وصف ہی ہو سکتا ہے جو اس ناول (سفر نارسائی) کا خاصہ ہے۔ محمد آصف رضا اپنی شخصیت اور دھیمے مزاج سے ہی کہانی کی پُر اسراریت اور تاثیر کے نمائندہ ہونے کے ساتھ ساتھ ماضی اور مقامیت کے بارے میں ایک انفرادی نقطہ نظر رکھتے ہیں ۔ اسی لیے اس خطے کے ایک پُر اسرار کردار مرزا عبدالقادر بیدل کو جہاں دریافت نو کے عمل سے گزار کر اُن کی شخصیت، حکیمانہ تصورات اور سبک ہندی جیسے دقیق پہلوؤں کو ناول میں ڈھالنے کا فنکارانہ عمل نہایت دلکش ہے وہیں شاعری کے رنگوں سے لے کر کائنات کے رنگوں تک پھیلی ہوئی یہ کہانی علوم تازہ کے عصری مباحث کو نئی نسل کی بحث اور سوالات کے ذریعے سامنے لاتی ہے جو ایک خوشگوار تجربہ ہے ۔ مقامیت اور ماضی کی یہ رومانوی دریافت کسی بھی مرعوب ذہن کے لیے بیک وقت ایک للکار اور نیا راستہ ہو سکتا ہے کہ آئیں اپنے ماضی اور خود کو اس تناظر سے بھی دیکھیں۔ کہانی بیک وقت دو زمانوں میں چلتی ہے۔ بیدل کے زمانے سے لے کر معاصر ما بعد جدید زمانے کے تار و پود نہایت باریک بینی اور فنی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ملائے گئے ہیں۔ بیدل کی منڈلی سے لے کر معاصر تکنیکی رصد گاہوں تک ہونے والے کا ئناتی مباحث کو کہانی میں ڈھالنے کا یہ عمل بہت کٹھن ہو گا جسے نہایت سبک رفتاری سے انجام دیتے ہوئے میٹا فزکس اور فزیکل ورلڈ کے فاصلوں اور فیصلوں کو نیم فلسفیانہ اور شاعرانہ رنگ میں پیش کیا گیا ہے۔ ناول نگار عبدالحلیم شرر، قراة العین حیدر عزیز احمد ، مستنصر حسین تارڑ ، شمس الرحمن فاروقی اور مرزا اطہر بیگ کے علمی و ادبی چشموں سے خوب فیض رساں لگتے ہیں۔ محمد آصف رضا کے پاؤں اپنی دھرتی پر اور نظر آسمان پر ہے۔ وہ مقامی ماحولیات سے لے کر مقامی دانش کی تہہ داری کا نہ صرف ادراک رکھتے ہیں بلکہ اُسے قابل فخر بنا کر پیش کرنا بھی جانتے ہیں۔ یہ کہانی ایک منفر در و مانوی اسلوب رکھتی ہے اور اُردو ناول کی روایت میں اپنا نقش چھوڑ نے جارہی ہے۔
شاہد نواز
(شعبہ اردو زبان و ادب )
یونیورسٹی آف سرگودھا
Write Your Review
Safar-e-Narasai ( Novel )
Our Feedback