Showing 1-9 of 577 item(s)
Tanqeedi Nazaryat ( Usul Or Fan Ke Matalq Mazamin Ka Mujamua ) New

Tanqeedi Nazaryat ( Usul Or Fan Ke Matalq Mazamin Ka Mujamua )

Rs. 800.00 ID-00594

تنقیدی نظریات اُردو میں نظری تنقید کی بنیادی کتاب سید احتشام حسین ترقی پسند تنقید کے بنیاد گزاروں میں سے ہیں۔ انھوں نے تنقید کے مختلف شعبوں میں قابل قدر تحریریں یادگار چھوڑی ہیں۔ طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی اُردو میں نظری تنقید کے موضوع پر بہت کم کتب دستیاب ہیں۔ تنقیدی نظریات کی ترتیب کا کام انھوں نے بیسویں صدی کے وسط میں کیا اور ہم دیکھتے ہیں کہ پون صدی گزرنے کے بعد بھی یہ کتاب اپنے موضوع کی مناسبت سے بنیادی اور مرکزی حیثیت کی حامل ہے۔ اسے فاضل مرتب نے تین حصوں (اول) مسائل ( دوم ) زاویے (سوم) تجزیے میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے میں اُصول تنقید، تنقید کی مبادیات ، نقاد کے منصب ، اور تنقید کے فن کی حدود کے بارے میں نیاز فتح پوری ، ڈاکٹر عبادت بریلوی، مجنوں گورکھ پوری اور کلیم الدین احمد کے مضامین شامل ہیں۔ نیز تنقید ، نظریہ اور عمل کے زیر عنوان سید احتشام حسین نے فن تنقید کے بارے میں خوبصورت طرز استدلال سے اپنے موضوع کا احاطہ کیا ہے۔ زاویے“ کے زیر عنوان دوسرے حصے میں تخلیق و تنقید کے باہمی رشتے، تحقیق و تنقید کے درمیان تعلق کے ساتھ ساتھ سائنٹیفک تنقید، نفسیاتی تنقید اور مارکسی تنقید کو مجنوں گورکھ پوری، ڈاکٹر سید عبد اللہ ، اسلوب احمد انصاری، سید شبیہ الحسن اور ڈاکٹر عبدالعلیم نے کامیابی سے اپنا موضوع بنایا ہے۔ تجزیئے" کے عنوان سے موجود حصہ سوم میں آل احمد سرور، ڈاکٹر اختر اور بینوی ، ریاض احمد اور سید ممتاز حسین نے ادب اور تنقید کی بنیادی اقدار پر خوبصورت مقالات پیش کیے ہیں۔ اُردو ادب کے اساتذہ اور طالب علموں کے لیے تنقید کے بنیادی تصورات اور نظریات کو سمجھنے کے لیے یہ مضامین کامل رہنمائی کے اہل ہیں۔ ان مقالات کی زبان رواں ، سلیس اور آسان فہم ہے اور فاضل نقادوں نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے انھیں تحریر کیا ہے۔ (ادارہ)

Kaghaz Ki Naao New

Kaghaz Ki Naao

Rs. 800.00 ID-00593

سجاد حیدر یلدرم اور منشی پریم چند اور اُن کے فوری بعد کی نسل نے اُردو افسانے کو عالمی ادب سے آنکھ ملانے کے قابل کر دیا تھا۔ قیام پاکستان سے قبل ہی اُردو افسانے کا معیار ادب اُردو کے لیے سرمایہ افتخار بن چکا تھا۔ ان افسانہ نگاروں کی وجہ سے اُردو افسانہ اتنی تیزی سے تخلیق ہوا کہ بعض افسانہ نگاروں کی کہانیوں کے انتخابات بھی سوسو افسانوں پر مشتمل قرار پائے ۔ اس دور میں ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کے دو اُردو افسانوی مجموعے ” محبت اور نفرت اور زندگی کا میلہ اور آگ اور آنسو کے نام سے ایک ہندی مجموعے کی اشاعت کوئی حیرت کی بات نہ تھی۔ اپنے کم افسانوں کے باوجود اختر حسین رائے پوری کا شمار اُردو کے اُن افسانہ نگاروں میں بہت نمایاں ہے، جنھوں نے افسانے کو غزل کا شعر بنا دیا۔ اختر کے افسانے حشو و زوائد سے یوں مبرا ہیں کہ کسی ایک واقعے کسی ایک پیرا گراف حتی کہ کسی ایک جملے کو بھی آپ افسانے سے نہیں نکال سکتے ۔ صفِ اوّل کے بعض افسانہ نگاروں کے ہاں تو اپنے نقطۂ نظر کو منوانے کی حد تک ضد نظر آتی ہے، یہاں تک کہ واقعات کی کثرت مرکزی نقطے کو دھندلا دیتی ہے۔ اُس عہد میں اختر کے علاوہ افسانے کی یہ شان صرف منٹو کے ہاں دکھائی دیتی ہے، لیکن منٹو آخری جملے کا افسانہ نگار ہے، جب کہ اختر حسین رائے پوری کے افسانے کی منتہا اُن کے ہر افسانے میں مختلف مقام پر محسوس ہوتی ہے۔ اُردو کے علاوہ سنسکرت، ہندی، بنگالی، گجراتی، فارسی، فرانسیسی اور انگریزی زبانوں سے شناسائی نے ان کے اسلوب پر نہایت خوش گوار اثر ڈالا ہے۔ منظر نگاری، جزئیات نگاری، کردار نگاری، جذبات نگاری میں انھیں ایسی دسترس حاصل ہے کہ قاری کسی مقام پر افسانے کے سحر سے نہیں نکل سکتا۔ یقینا آج اُردو افسانہ بہت کی منزلیں طے کر چکا ہے، لیکن پیچھے مڑ کر دیکھیں تو اختر کے افسانے ایک روشن ستارے کی مانند ماضی کے دھند لکے کو منور کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ معروف شاعر اور ادیب جناب ارشد نعیم نے مذکورہ بالا دونوں افسانوی مجموعوں کے علاوہ اختر حسین رائے پوری کے غیر مرتب افسانوں کو بھی مجموعے میں شامل کر کے ان کا افسانوی کلیات مرتب کر دیا ہے۔ ان کی یہ کاوش اُردو افسانے کی تاریخ میں تادیر یاد رکھی جائے گی۔ ڈاکٹر خالد ندیم

Ek Qaum Ki Taqsim New

Ek Qaum Ki Taqsim

Rs. 1,500.00 ID-00592

حمید الحق چودھری کا تعلق پاکستان کی اس نسل سے تھا جس نے قیام پاکستان کی تحریک میں تن من دھن سے شرکت کی۔ ان کا شمار مشرقی پاکستان کے ان چیدہ چیدہ رہنماؤں میں کیا جاتا ہے جو دل و دماغ سے متحدہ پاکستان کے ہمنوا اور حامی تھے۔ 50ء کی دہائی میں انہیں پاکستان کا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے بھر پور جدو جہد کی لیکن علیحدگی پسند تحریک سے گریزاں ؟ رہے۔ پاکستان سے محبت کی وجہ سے انہیں کٹھن نتائج بھی بھگتنا پڑے، ڈھا کہ میں ان کی تمام جائیداد بشمول اخبار پاکستان ابزرور کو بحق سرکار ضبط کر لیا گیا ۔ 80ء کی دہائی میں وہ اپنی جائیداد کا کچھ ہی حصہ واگزار کرانے میں کامیاب ہوئے۔ ان کی یادداشتیں ہماری معاصر تاریخ کا ایک عمدہ شخصی و سیاسی بیانیہ ہیں۔ چودھری صاحب کا انگریزی طرز تحریر سادہ اور رواں ہے۔ ان یاد داشتوں کے مترجم منصور امین نے کتاب کے ترجمہ کا فریضہ دیانتداری اور زبان و بیان کے سارے سلیقے ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مکمل کیا ہے۔ خالد ہمایوں حمید الحق چوہدری کی یادداشتوں کا ترجمہ گجرات سے تعلق رکھنے والی ایک کتاب دوست شخصیت منصور امین نے سرانجام دیا ہے۔ ترجمہ اگر چہ ایک دقت طلب امر ہے کیونکہ مترجم کو بیک وقت دو زبانوں کی لفظی وثقافتی نزاکتوں سے نبرد آزما ہوتے ہوئے قاری کی دلچسپی کو قائم رکھنا ہوتا ہے، مگر مترجم نے سلیس اور رواں دواں زباں کو سلیقہ سے برتتے ہوئے انگریزی متن کو کامیابی سے اُردو متن کی صورت میں ڈھالتے ہوئے آج کے قاری کو ایک گزرے ہوئے زمانہ سے آشنائی دینے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ منصور امین قبل ازیں سانحہ 1971ء پر بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد اللہ خان کی انگریزی کتاب East Pakistan to Bangladesh کو بھی اُردو زبان میں مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک کے نام سے پیش کر چکے ہیں۔ 2003ء میں انھوں نے معروف دانشور و سیاسی مفکر اقبال احمد کے مضامین، مقالوں و کالموں کو تین جلدوں میں Eqbal Ahmad: Essays کی صورت میں مرتب کرتے ہوئے قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ اقبال احمد کی تحریروں کو کتابی صورت میں مدون کرنے کی یہ پہلی کاوش تھی ۔ وہ اس وقت تراجم کے کئی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف عمل ہیں۔ بسلسلہ روزگار وہ یونیورسٹی آف گجرات سے وابستہ ہیں۔ اداره

Urip Ke Safar New

Urip Ke Safar

Rs. 800.00 ID-00591

Maulana Muhammad Ali Johar - مولانا محمد علی جوہر یورپ کے سفر مولانا محمد علی جوہر کا یورپ کے سفر ان کے یورپ کے ان اسفار کا احوال ہے جو انھوں نے نوجوانی سے لے کر زندگی کی آخری سانس تک مختلف اوقات میں کیے۔ ان اسفار کا احوال وہ خطوط کی صورت میں اپنے ہفت روزہ اخبارات ” ہمدرد اور کامریڈ کے لیے تحریر کرتے رہے۔ ان خطوط کا اسلوب عمومی اور عوامی ہے کیونکہ ان کا مقصد اخبار کے قارئین کو گول میز کانفرنس میں ہونے والی مباحث اور جد و جہد آزادی کے لیے کی گئی کوششوں سے باخبر رکھنا تھا۔ ان خطوط نما رو دادوں میں رپورتاژ کی سی ادبی چاشنی اور رنگینی در آئی ہے، پروفیسر محمد سرور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی نے بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں انھیں رسائل کی فائلوں سے تلاش کر کے خوبصورتی سے مرتب کیا ہے۔ اس سفر نامے میں جہاں ہندوستان کی جد و جہد آزادی کے مختلف مراحل کے بارے میں آگاہی حاصل ہوتی ہے وہاں مولانا محمد علی جوہر کی اپنے وطن کے لیے محبت کا بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ انھوں نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں بھر پور حصہ لیا اور تحریک خلافت سے لے کر تحریک پاکستان تک مسلسل جد و جہد کی۔ اُن کی اولین کوشش یہ تھی کہ بر صغیر پاک و ہند کے تمام باسی بلا امتیاز مذہب و ملت اور رنگ ونسل انگریزوں سے آزادی کا مطالبہ کریں، اس کے لیے انھوں نے اپنے اخبارات ” کا مرید اور ہمدرد کے ذریعے جدو جہد کی اور جب انھیں معلوم ہو گیا کہ ہندو مسلمانوں کے حوالے سے تعصب کا شکار ہیں تو انھوں نے تحریک پاکستان کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ یہ سفر نامہ اپنے عمدہ اسلوب ، جاندار نثر اور یورپ کی زندگی کے مختلف مظاہر اور بیش قدر معلومات کی وجہ سے قارئین کے لیے ایک عمدہ تحفہ ثابت ہوگا۔ اس میں تاریخ، تہذیب، ثقافت، سیاست اور ادب یکجا ہو گئے ہیں۔

Potpourri New

Potpourri

Rs. 1,000.00 ID-00589

Dr. Hammad Ahmed Bhatti is a physician by profession, an ex-civil servant by compassion, and a poet by passion settled in the UAE for more than two decades. Raised in the cultural heartland of Pakistan, he grew up surrounded by the aura of books, nature, spiritualism, and meaningful friendships that shaped his reflective soul. Having lived and traveled across diverse landscapes around the globe his work captures fleeting moments with clarity, grace, and emotional depth. With a career spanning in the different specialties of medicine, public service, and literary expression, Dr. Bhatti brings a rare blend of sensitivity, intellect, and introspection to his multilingual prose and poetic writings. It is an intimate collection of poems rooted in his personal reflection and inspired by nature, nostalgia, love, and journey. Each poem is a pressed petal from the garden of time: subtle, fragrant, and everlasting. Potpourri: Petals of the Past is his first anthology of English poems, although 6th in toto after his previously published books in Urdu and Punjabi languages. Safdar Hussain Al-Hamd Publications

Ghalib Nama New

Ghalib Nama

Rs. 1,000.00 ID-00588

تعارف ہمارے کلاسیکی ادب کے مطالعات کا دامن وسیع کرنے میں جن لوگوں کی تحریروں نے سب سے اہم حصہ لیا ان میں شیخ محمد اکرام نمایاں ہیں۔ آج تک ان کی کتابیں حوالے کے طور پر کام آتی ہیں۔ غالب کے بارے میں اُن کی تحریروں سے استفادہ کرنا گویا کہ غالبیات کی تاریخ کے ایک باب کا مطالعہ کرنا ہے۔ غالب کی شاعری کو اہل ذوق نے خود اپنی شعر فہمی کی آزمائش کا ذریعہ سمجھا ہے۔ اُن کے کلام کے مختلف پہلوؤں پر بحث کرنے اور اشعار کی نئی نئی جہتوں کی جستجو کی کوشش ہمیشہ کی جاتی رہی ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گی۔ شیخ محمد اکرام ، غالب کے طرفداروں میں حالی کے بعد کے دور کے سب سے اہم نقاد ہیں۔ اُن کے نزدیک نقاد کا کام احتساب نہیں بلکہ ترجمانی ہے۔ اور اسی نقطہ نظر سے غالب کے کلام کا انھوں نے مطالعہ کیا اور اس کے نتائج کو ایسی متوازن بحث کے بعد شگفتہ عالمانہ اسلوب میں پیش کیا کہ اس سے پہلے اس کی مثال نہیں ملتی وہ ان لوگوں میں تھے جنھوں نے مغرب میں تعلیم پائی تھی مگر اپنے دور کے مغرب سے مرعوب دانشوروں سے بالکل الگ ایک آزادانہ ذہنی رویہ رکھتے تھے۔ شیخ محمد اکرام نے غالب کے عہد ان کی زندگی و شخصیت اُن کے ادبی ارتقا کے ساتھ اُن کی نظم و نثر پر اظہار خیال کرتے ہوئے اُردو اور دوسری زبانوں کے چند اہم شاعروں سے ان کا تقابلی مطالعہ بھی کیا ہے۔ یہ کتاب غالبیات کے خزانے کا اس اعتبار سے ایک نہایت جامع اور مستند حصہ ہے۔ بعض دوسری اہم کتابوں کی طرح یہ بھی عام طور سے اب دستیاب نہیں ۔ اس لیے ہم نے اس کی بازیافت کی ۔ ہم اہل علم کے سامنے اسے ایک بار پھر پیش کرتے ہیں۔

Afikari Ghalib New

Afikari Ghalib

Rs. 1,200.00 ID-00587

افکار غالب غالب اصطلاحی معنوں میں فلسفی تو نہیں ، مگر انہیں فلسفیانہ مسائل سے گہری دلچسپی ہے وہ ان مسائل کو ایسے عام فہم اور دلچسپ انداز میں پیش کرتے ہیں کہ ان مسائل کی پیچیدگی اور گہرائی کا ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا لیکن اگر اُن کے اشعار کی نہیں کھولی جائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ الفاظ کے پردے میں ایک جہانِ معنی چھپا ہوا تھا۔ خالص فلسفیانہ نقطۂ نظر سے دو ہی شرحیں سامنے آئی ہیں اور دونوں متفرق اشعار کی جزوی شرحیں ہیں۔ پہلے ڈاکٹر شوکت سبزواری کی کتاب فلسفہ کلام غالب سامنے آئی تھی جس میں غالب کے ان اشعار کی تفسیر و تشریح پیش کی گئی تھی جن میں ایسے مضامین نظم ہوئے ہیں جن سے فلسفہ کو دلچسپی ہے۔ لیکن شوکت سبزواری بھی اصطلاحی معنوں میں فلسفی نہیں تھے ان کی اس کوشش کو ایک عام شارح کی فلسفیانہ کاوش ہی کہا جا سکتا ہے۔ دوسری کتاب افکار غالب“ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کی لکھی ہوئی ہے۔ خلیفہ عبدالحکیم خود فلسفی تھے ۔ مغرب و مشرق کے فلسفوں پر اُن کی گہری نظر تھی ، وہ اسلامیات کے بھی دیدہ ور عالم تھے۔ مثنوی مولانا روم کے علاوہ مسلمان فلاسفہ کے افکار سے واقف تھے اور انہیں وہ مواضع بھی معلوم تھے جہاں مغرب و مشرق کے فلسفے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں یا بغل گیر ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے جس طرح مولانا روم اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے افکار کا فلسفیانہ جائزہ لیا، اسی انداز سے غالب کے فارسی اور اُردو کلام سے وہ اشعار انتخاب کیے جن میں فلسفیانہ مضامین باندھے گئے ہیں اور اُن کی تشریح ایسے فکر افروز انداز میں کی ہے کہ افکار غالب کی دقت ، لطافت اور فلسفیانہ قدر و قیمت روشن ہو کر ہمارے سامنے آجاتی ہے۔ یہ اگر چہ صرف منتخب اشعار کی شرح و تفسیر ہے مگر اسے پڑھ کر ہم پورے غالب کو سمجھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم کا انداز بیان اور اسلوب نگارش نہ صرف نہایت عالمانہ ہے، اس میں دل رُبائی کی آن بھی ہے، ایسا اسلوب بھی کم لکھنے والوں کو نصیب ہوتا ہے۔ سید مظفر حسین برنی

kulliyat ishaq abad New

kulliyat ishaq abad

Rs. 2,000.00 ID-00585

ہمارے دور کے بیشتر شعراء مختلف محرکات کے تحت شعر گوئی شروع کر دیتے ہیں اور بعض وجوہ کی بنا پر چند ایک کو پذیرائی بھی مل جاتی ہے لیکن جلد ہی اپنے آپ کو دہرانا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ مطالعہ ادب سے بے تعلق ہوتے ہیں۔ عباس تابش البته استثنائی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُردو شاعری کے کلاسیکی اور جدید سرمائے پر اُن کی گہری نظر ہے۔ اس وسعتِ مطالعہ کی وجہ سے فنِ شعر کے تمام اسرار و رموز ان پر روشن ہیں۔ وہ خیالات کو ذاتی طور پر محسوس کر کے شعر کا جامہ پہناتے ہیں اس لیے ان کی شاعری میں قدیم یا جدید شعراء کے خیالات کی تکرار کہیں موجود نہیں ان کے ہاں انفرادیت اور تازه کاری جگہ جگہ موجود ہے چنانچہ ان کا کلام گہرے تاثر کا حامل ہے اور گزشتہ چند دہائیوں سے جو شاعری تخلیق ہو رہی ہے اس میں عباس تابش کا مقام بہت بلند ہے۔ خواجہ محمد زکریا

Kuliyat Noon Meem Rashid New

Kuliyat Noon Meem Rashid

Rs. 1,500.00 ID-00584

راشد کا رجحان نہ انفرادیت کی طرف ہے نہ اجتماعیت کی طرف۔ انفرادیت کی خوفناک تنہائیاں شاعر کو پسند نہیں۔ اور اجتماعیت جو فرد ہی کو بلندی کے انتہائی نقطے پر پہنچانے کی ایک کوشش کا نام ہے۔ اس میں اُسے بے شمار رخنے اور پیچ نظر آتے ہیں۔ پھر وہ کون سا نظام زندگی ہے جس میں یہ زہر موجود نہ ہو۔ زندگی کے اس دوراہے پر پہنچ کر اس نے بشریت کے دامن میں پناہ لی ہے۔ کرشن چندر راشد ہمارے جدید شاعروں میں یقینا ایک اہم نام ہیں۔ انھوں نے مغربی شاعری کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ مغرب کی کلاسیکی شاعری کے ساتھ ساتھ جدید شاعری سے بھی انھیں بہت لگاؤ تھا۔ شاعری کی جدید تحریکیں خواہ وہ لاطینی امریکہ میں ہوں یا افریقہ میں یا کہیں اور راشد کی نظر سے پوشیدہ نہیں تھیں ۔ انھوں نے ان تحریکوں سے استفادہ کیا لیکن ایشیا کے مسائل کو مد نظر رکھ کر موضوعات منتخب کیے۔ ان کے ہاں فکری شاعری زیادہ ہے جس میں ہم عصر سیاسی اور ادبی تحریکوں سے انپیریشن حاصل کی گئی ہے۔ مغربی ادب کو براہ راست پڑھ کر اور اس سے اثر پذیر ہو کر، اُردو شاعری میں متعدد تازہ تجربات کو پیش کرنے اور آنے والے شعرا کی ایک پوری نسل کو متاثر کرنے کی وجہ سے ان کی اہمیت مسلم ہے۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا زبان کی بے مثال خوب صورتی ، پیکروں کی تجریدی پیچیدگی اور کلام کی روانی اپنا جواب آپ ہیں لیکن یہ تو ن م راشد کی عام خصوصیات ہیں۔ ان کی شاید ہی کوئی نظم زبان کی غیر معمولی چمک دمک اور لفظوں کے جرات مندانہ استعمال کی صفت سے خالی ہو۔ اُن کی یہ صفت عمر کے ساتھ ساتھ مزید بڑھتی گئی شمس الرحمن فاروقی غالب اور اقبال کے بعد میرے لیے راشد وہ تیسرے شاعر ہیں جس کی نظموں میں معنی کے امکانات کبھی ختم نہیں ہوتے ۔ یہ شاعری اپنی تفہیم اور تعبیر کے کسی بھی مرحلے میں ہمارے لیے محض ماضی کی چیز نہیں بنے پاتی ، اپنے تمام دروازے کبھی بند نہیں کرتی۔ کسی نہ کسی تجربے، طرز احساس اور تصور کے واسطے سے یہ شاعری ہمیں از سر نو متوجہ کر لیتی ہے اور ہماری تخلیقی احتیاج کی آسودگی کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ ڈاکٹر شمیم حنفی

Showing 1-9 of 577 item(s)