Taarekh Addab Urdu

تاریخ ادب اُردو

Author
:  
رام بابو سکسینہ    
Subject
:  
Urdu Adab
ISBN
:  
978-627-7917-32-6
Year
:  
2026
Language
:  
Urdu
Pages
:  
648
Rs:1600/=

اس کتاب کی تصنیف کی اصلی غرض یہ ہے کہ ادب اُردو کی تدریجی ترقی کا خاکہ زمانہ قدیم سے لے کر زمانہ حال تک کا مع مشہور شعرا اور شاروں کے مختصر حالات زندگی اور اُن کے کلام اور تصانیف پر ایک مختصر تنقید کے کھینچا جائے۔ یہ بھی کوشش کی گئی ہے کہ ایک طبقہ کے تعلقات دوسرے طبقہ کے ساتھ اور ایک فرد کے تعلقات دوسرے فرد کے ساتھ اس میں وضاحت سے بیان کیے جائیں اور نیز مختلف تحریکوں اور طرزوں کی ابتدا اور ترقی اور زوال کے اسباب بتائے جائیں اور اُس دور کے تاریخی حالات و واقعات بھی نظر انداز نہ کیے جائیں جس میں کہ وہ شعرا اور شمار گزرے۔ یہ کتاب محض کسی زمانے کے واقعات کا ایک ذخیرہ نہیں بلکہ ان خیالات اور خصوصیات کے دکھانے کی اس میں پوری کوشش کی گئی ہے جن کا اثر اُس زمانہ پر تھا۔ اس کی تصنیف میں میرے پیش نظر یہ رہا ہے کہ یہ زمانہ حال کے تنقیدی اصولوں کے مطابق بطور ٹیکسٹ بک تیار کی جائے تا کہ انگریزی دان جماعت بھی ادب اُردو سے کما حقہ واقف ہو جائے۔ رام بابو سکسینہ قابل مصنف کو اس بارے میں ضرور داد دینا پڑتی ہے کہ کیسے مسلسل اور مربوط طریقہ سے انھوں نے زبان اور ادب اُردو کی ترقی اور نشو و نما کا حال قدیم زمانہ سے لے کر زمانہ حال تک کا لکھا ہے۔ ایک بات جو مجھے ان میں نہایت اُمید افزا معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنی رائے قائم کرنے میں آزاد اور اپنے اظہار خیال میں بے باک ہیں۔ مختصر یہ کہ کتاب نہایت اعلیٰ درجہ کی ہے جس کے واسطے تمام بہی خواہانِ اُردو کو لائق مصنف یعنی رام بابو سکسینہ صاحب کا احسان مند ہونا چاہیے۔ یہ کتاب یقیناً اُن تمام اصحاب کو پسند آئے گی ، اور میری رائے رام بابو سکسینہ صاحب کا احسان مند ہونا چاہیے۔ یہ کتاب یقینا میں ضرور آنا چاہیے جو اس بات کی تحقیق چاہتے ہیں کہ زبانِ اُردو کس طرح عالم وجود میں آئی مختلف اُستادوں کے ہاتھ سے اُس میں کیا کیا تبدیلیاں واقع ہوئیں اور ترقی کے مختلف ادوار نے اس پر کیا کیا اثرات کیے۔ ڈاکٹر سرتیج بہادر سپرو رام بابو سکسینہ نے جس کاوش، جس کوشش ، زورِ مطالعہ اور وسعتِ نظر سے اس میں کام لیا ہے اور اسلوب بیان و تنقید وغیرہ میں جو صفائی مد نظر رکھی ہے ، شعراً اور نثاروں کے کلام کا توازن کر کے اُن پر جیسی صحیحبیبا کا نہ اور بے لاگ رائیں قائم کی ہیں، وہ اس کتاب کو ہر حیثیت سے منفر دصورت میں پیش کرتی ہیں۔ تلاش و جستجو کا یہ عالم ہے کہ اُن واقعات کو اظہر من الشمس کر دیا ہے جس سے ابھی تک لوگ نا آشنا تھے۔ ایک ایک لفظ سے ایک ضخیم دفتر کا فائدہ اُٹھایا ہے اس کے ساتھ کہیں تو ازن و انصاف کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ فاضل مصنف نے اصل کتاب کی ترتیب میں اُسی روش کا خیال رکھا ہے جو ادب انگریزی کے مشہور مؤرخین پروفیسر سینٹس بری (Saintsbury) اور گاس وغیرہ نے اپنی تصانیف میں اختیار کی ہے جس سے علاوہ جدت ترتیب اور مخصوص اسلوب بیان کے یہ فائدہ بھی ضرور ہوا کہ کتاب اُن اصحاب کے واسطے بہت مفید ہو گئی جنھوں نے بی اے یا ایم اے کی ڈگری یا آئی سی ایس کے واسطے ادب اُردو لیا ہو۔ مرز امحمد عسکری

اس کتاب کی تصنیف کی اصلی غرض یہ ہے کہ ادب اُردو کی تدریجی ترقی کا خاکہ زمانہ قدیم سے لے کر زمانہ حال تک کا مع مشہور شعرا اور شاروں کے مختصر حالات زندگی اور اُن کے کلام اور تصانیف پر ایک مختصر تنقید کے کھینچا جائے۔ یہ بھی کوشش کی گئی ہے کہ ایک طبقہ کے تعلقات دوسرے طبقہ کے ساتھ اور ایک فرد کے تعلقات دوسرے فرد کے ساتھ اس میں وضاحت سے بیان کیے جائیں اور نیز مختلف تحریکوں اور طرزوں کی ابتدا اور ترقی اور زوال کے اسباب بتائے جائیں اور اُس دور کے تاریخی حالات و واقعات بھی نظر انداز نہ کیے جائیں جس میں کہ وہ شعرا اور شمار گزرے۔ یہ کتاب محض کسی زمانے کے واقعات کا ایک ذخیرہ نہیں بلکہ ان خیالات اور خصوصیات کے دکھانے کی اس میں پوری کوشش کی گئی ہے جن کا اثر اُس زمانہ پر تھا۔ اس کی تصنیف میں میرے پیش نظر یہ رہا ہے کہ یہ زمانہ حال کے تنقیدی اصولوں کے مطابق بطور ٹیکسٹ بک تیار کی جائے تا کہ انگریزی دان جماعت بھی ادب اُردو سے کما حقہ واقف ہو جائے۔ رام بابو سکسینہ قابل مصنف کو اس بارے میں ضرور داد دینا پڑتی ہے کہ کیسے مسلسل اور مربوط طریقہ سے انھوں نے زبان اور ادب اُردو کی ترقی اور نشو و نما کا حال قدیم زمانہ سے لے کر زمانہ حال تک کا لکھا ہے۔ ایک بات جو مجھے ان میں نہایت اُمید افزا معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنی رائے قائم کرنے میں آزاد اور اپنے اظہار خیال میں بے باک ہیں۔ مختصر یہ کہ کتاب نہایت اعلیٰ درجہ کی ہے جس کے واسطے تمام بہی خواہانِ اُردو کو لائق مصنف یعنی رام بابو سکسینہ صاحب کا احسان مند ہونا چاہیے۔ یہ کتاب یقیناً اُن تمام اصحاب کو پسند آئے گی ، اور میری رائے رام بابو سکسینہ صاحب کا احسان مند ہونا چاہیے۔ یہ کتاب یقینا میں ضرور آنا چاہیے جو اس بات کی تحقیق چاہتے ہیں کہ زبانِ اُردو کس طرح عالم وجود میں آئی مختلف اُستادوں کے ہاتھ سے اُس میں کیا کیا تبدیلیاں واقع ہوئیں اور ترقی کے مختلف ادوار نے اس پر کیا کیا اثرات کیے۔ ڈاکٹر سرتیج بہادر سپرو رام بابو سکسینہ نے جس کاوش، جس کوشش ، زورِ مطالعہ اور وسعتِ نظر سے اس میں کام لیا ہے اور اسلوب بیان و تنقید وغیرہ میں جو صفائی مد نظر رکھی ہے ، شعراً اور نثاروں کے کلام کا توازن کر کے اُن پر جیسی صحیحبیبا کا نہ اور بے لاگ رائیں قائم کی ہیں، وہ اس کتاب کو ہر حیثیت سے منفر دصورت میں پیش کرتی ہیں۔ تلاش و جستجو کا یہ عالم ہے کہ اُن واقعات کو اظہر من الشمس کر دیا ہے جس سے ابھی تک لوگ نا آشنا تھے۔ ایک ایک لفظ سے ایک ضخیم دفتر کا فائدہ اُٹھایا ہے اس کے ساتھ کہیں تو ازن و انصاف کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ فاضل مصنف نے اصل کتاب کی ترتیب میں اُسی روش کا خیال رکھا ہے جو ادب انگریزی کے مشہور مؤرخین پروفیسر سینٹس بری (Saintsbury) اور گاس وغیرہ نے اپنی تصانیف میں اختیار کی ہے جس سے علاوہ جدت ترتیب اور مخصوص اسلوب بیان کے یہ فائدہ بھی ضرور ہوا کہ کتاب اُن اصحاب کے واسطے بہت مفید ہو گئی جنھوں نے بی اے یا ایم اے کی ڈگری یا آئی سی ایس کے واسطے ادب اُردو لیا ہو۔ مرز امحمد عسکری

Reference demo_7

Reference demo_7


35 other products in the same category: