Showing 1-9 of 54 item(s)
Kaghaz Ki Naao New

Kaghaz Ki Naao

Rs. 800.00 ID-00593

سجاد حیدر یلدرم اور منشی پریم چند اور اُن کے فوری بعد کی نسل نے اُردو افسانے کو عالمی ادب سے آنکھ ملانے کے قابل کر دیا تھا۔ قیام پاکستان سے قبل ہی اُردو افسانے کا معیار ادب اُردو کے لیے سرمایہ افتخار بن چکا تھا۔ ان افسانہ نگاروں کی وجہ سے اُردو افسانہ اتنی تیزی سے تخلیق ہوا کہ بعض افسانہ نگاروں کی کہانیوں کے انتخابات بھی سوسو افسانوں پر مشتمل قرار پائے ۔ اس دور میں ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کے دو اُردو افسانوی مجموعے ” محبت اور نفرت اور زندگی کا میلہ اور آگ اور آنسو کے نام سے ایک ہندی مجموعے کی اشاعت کوئی حیرت کی بات نہ تھی۔ اپنے کم افسانوں کے باوجود اختر حسین رائے پوری کا شمار اُردو کے اُن افسانہ نگاروں میں بہت نمایاں ہے، جنھوں نے افسانے کو غزل کا شعر بنا دیا۔ اختر کے افسانے حشو و زوائد سے یوں مبرا ہیں کہ کسی ایک واقعے کسی ایک پیرا گراف حتی کہ کسی ایک جملے کو بھی آپ افسانے سے نہیں نکال سکتے ۔ صفِ اوّل کے بعض افسانہ نگاروں کے ہاں تو اپنے نقطۂ نظر کو منوانے کی حد تک ضد نظر آتی ہے، یہاں تک کہ واقعات کی کثرت مرکزی نقطے کو دھندلا دیتی ہے۔ اُس عہد میں اختر کے علاوہ افسانے کی یہ شان صرف منٹو کے ہاں دکھائی دیتی ہے، لیکن منٹو آخری جملے کا افسانہ نگار ہے، جب کہ اختر حسین رائے پوری کے افسانے کی منتہا اُن کے ہر افسانے میں مختلف مقام پر محسوس ہوتی ہے۔ اُردو کے علاوہ سنسکرت، ہندی، بنگالی، گجراتی، فارسی، فرانسیسی اور انگریزی زبانوں سے شناسائی نے ان کے اسلوب پر نہایت خوش گوار اثر ڈالا ہے۔ منظر نگاری، جزئیات نگاری، کردار نگاری، جذبات نگاری میں انھیں ایسی دسترس حاصل ہے کہ قاری کسی مقام پر افسانے کے سحر سے نہیں نکل سکتا۔ یقینا آج اُردو افسانہ بہت کی منزلیں طے کر چکا ہے، لیکن پیچھے مڑ کر دیکھیں تو اختر کے افسانے ایک روشن ستارے کی مانند ماضی کے دھند لکے کو منور کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ معروف شاعر اور ادیب جناب ارشد نعیم نے مذکورہ بالا دونوں افسانوی مجموعوں کے علاوہ اختر حسین رائے پوری کے غیر مرتب افسانوں کو بھی مجموعے میں شامل کر کے ان کا افسانوی کلیات مرتب کر دیا ہے۔ ان کی یہ کاوش اُردو افسانے کی تاریخ میں تادیر یاد رکھی جائے گی۔ ڈاکٹر خالد ندیم

Khuwa Dar Khuwab - خواب در خواب New

Khuwa Dar Khuwab - خواب در خواب

Rs. 800.00 ID-00564

Khuwa Dar Khuwab - خواب در خواب

Chekhuf Ke Be Masal Afsane - چیخوف کے بے مثال افسانے New

Chekhuf Ke Be Masal Afsane - چیخوف کے بے مثال افسانے

Rs. 800.00 ID-00561

Chekhuf Ke Be Masal Afsane - چیخوف کے بے مثال افسانے

Qaidi sans Lita hai |  Author : Zahida Hanna | قیدی سانس لیتا ہے | مصنف : زاہدہ حنا New

Qaidi sans Lita hai | Author : Zahida Hanna | قیدی سانس لیتا ہے | مصنف : زاہدہ حنا

Rs. 800.00 ID-00544

زاہدہ حنا زاہدہ حنا پاکستان کی مشہور کالم نویس ہیں اور برصغیر میں نمایاں حیثیت رکھنے والے پاکستانی شاعر، فلسفی، سوانح نگار جون ایلیا کی مطلقہ بیگم ہیں ذاتی زندگی زاہدہ حنا تقسیم ہند کے بعد ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد محمد ابو الخیر بعد ازاں ہجرت کرکے پاکستان چلے گئے اور کراچی میں آباد ہو گئے جہاں زاہدہ حنا کی پرورش ہوئی اور کچھ عرصہ وہ گھر میں ہی زیر تعلیم رہیں۔ ساتویں جماعت سے زاہدہ حنا نے ہیپی ہوم اسکول سے رسمی تعلیم شروع کی [3]۔ 9 سال کی عمر میں زایدہ نے پہلی کہانی لکھی۔ زاہدہ نے کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کی اور ان کا پہلا مضمون ماہنامہ انشا میں 1962ء میں چھپا۔ 1960ء کی دہائی میں انھوں نے صحافت کو بطور پیشہ اپنا لیا۔ 1970ء میں ان کی شادی مشہور شاعر جون ایلیا سے ہو گئی۔ زاہدہ حنا نے روزنامہ جنگ میں 1988ء سے 2005ء تک کام کیا اور پھر وہ روزنامہ ایکسپریس، پاکستان سے منسلک ہو گئیں۔ زاہدہ حنا نے وائس آف امریکا، بی بی سی اردو اور ریڈیو پاکستان میں بھی کام کیا ہے۔ 2006ء سے وہ رس رنگ میں ہفتہ وار کالم پاکستان ڈائری بھی لکھتی ہیں جو ہندوستان کے سب سے بڑے ہندی اخبار دینک بھاسکر کا سنڈے میگزین ہے۔ انجمن ترقیِ اردو پاکستان کی مجلس نظماء نے ڈاکٹر فاطمہ حسن کے بعد یکم اپریل 2019 سے مارچ 2022 تک کے لئے زاہدہ حنا کو معتمد منتخب کیا۔۔پھر 2022 میں جنرل باڈی کے الیکشن کے نتیجے میں زاہدہ حنا دوسری ٹرم کے لئے بھی انجمن کہ معتمد مقرر ہوئیں اور ابھی تک وہ اس عہدے پر برقرار ہیں۔ ازدواجی زندگی زاہدہ حنا کے شوہر جون ایلیا ایک ادبی رسالے انشاء سے بطور مدیر وابستہ تھے جہاں ان کی ملاقات زاہدہ حنا سے ہوئی بعد میں ان دونوں نے شادی کر لی۔ زاہدہ حنا اپنے انداز کی ایک ترقی پسند دانشور ہیں اور اب بھی دو روزناموں، روزنامہ جنگ اور ایکسپریس میں حالات حاضرہ اور معاشرتی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ جون اور زاہدہ کی 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوئے۔ 1980ء کی دہائی کے وسط میں ان کی طلاق ہو گئی۔ تصانیف زاہدہ حنا کے بے مثال افسانے رقص بسمل ہے (افسانے) تتلیاں ڈھونڈنے والی (افسانے) عورت زندگی کا زنداں نہ جنوں رہا نہ پری رہی قیدی سانس لیتا ہے [2] راہ میں اجل ہے درد کا شجر درد آشوب زرد پتوں کا بین (ٹی وی ڈراما) تنہائی کا گھر (The House of Loneliness ) زاہدہ حنا کے افسانوں کا انگریزی ترجمہ [5] زاہدہ حنا کی کتابوں کو انگریزی میں فیض احمد فیض، ثمینہ رحمان اور محمد عمر میمن ترجمہ کر چکے ہیں اعزازات فیض ایوارڈ ادبی پرفارمنس ایوارڈ ساغر صدیقی ادبی ایوارڈ کے پی ایوارڈ سندھ اسپیکر ایوارڈ سارک لٹریری ایوارڈ، 2002ء میں صدر انڈیا کی طرف سے [6] اگست 2006ء میں انھیں صدارتی ایوارڈ تمغا حسن کارکردگی کے لیے نامزد کیا گیا مگر فوجی آمر کے خلاف احتجاج کے طور پر انھوں نے اس ایوارڈ کو مسترد کر دیا۔ آسیہ نازلی نے ان کی سوانح حیات لکھی، زاہدہ حنا ، تحقیقی و تنقیدی مطالعہ

Showing 1-9 of 54 item(s)