Showing 28-36 of 586 item(s)
Khuwa Dar Khuwab - خواب در خواب New

Khuwa Dar Khuwab - خواب در خواب

Rs. 800.00 ID-00564

Khuwa Dar Khuwab - خواب در خواب

Mot Mere Taqib Min - موت میرے تعاقب میں New

Mot Mere Taqib Min - موت میرے تعاقب میں

Rs. 700.00 ID-00562

Mot Mere Taqib Min - موت میرے تعاقب میں

Chekhuf Ke Be Masal Afsane - چیخوف کے بے مثال افسانے New

Chekhuf Ke Be Masal Afsane - چیخوف کے بے مثال افسانے

Rs. 800.00 ID-00561

Chekhuf Ke Be Masal Afsane - چیخوف کے بے مثال افسانے

Fasana Ghalb - فسانہ غالب New

Fasana Ghalb - فسانہ غالب

Rs. 800.00 ID-00560

فسانہ غالب غالب شناسی کی ایک معتبر دستاویز مالک رام کا شمار اُردو کے ان ممتاز محققین میں ہوتا ہے جنہوں نے مرزا غالب کی شخصیت اور فن کو علمی و تحقیقی سطح پر گہرائی سے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی۔ ان کی تصنیف فسانه غالب نہ صرف غالب کی زندگی کا آئینہ ہے بلکہ ان کے فکری، ادبی، اور شخصی پہلوؤں کو بھی علمی بصیرت کے ساتھ آشکار کرتی ہے۔ مرزا اسد اللہ خان غالب، جنہیں اُردو شاعری کے عہد ساز شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جنہوں نے روایت اور جدت کے سنگم پر اپنی انفرادیت قائم کی۔ ان کی شاعری صرف لفظی بازیگری نہیں بلکہ فکر و احساس کی وہ گہرائی ہے جس میں قاری ڈوب جاتا ہے۔ ایسے ہی فسانہ غالب بھی غالب فہمی میں ایک عمیق اور بے بدل کاوش ہے۔ فسانہ غالب میں مالک رام نے مرزا غالب کی حیات، ان کی تصنیفات، خطوط، اور ان کے عہد کے سماجی و ادبی پس منظر پر جامع و مدلل مضامین قلمبند کیے ہیں۔ ان مضامین میں ولادت غالب“، ”استاد غالب" ، "غالب کی مہریں، مقدمہ پنشن کی عرضی، اور غالب کے محمد وحین جیسے موضوعات شامل ہیں، جو نہ صرف عام قارئین بلکہ غالب کے خصوصی مطالعے سے دلچسپی رکھنے والے محققین کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ مالک رام کے یہ مضامین غالب فہمی کی نئی راہیں کھولتے ہیں اور اُردو تحقیق و تنقید میں ایک بیش قیمت اضافہ ہیں ۔ فسانہ غالب کو بجا طور پر غالب شناسی کی ایک معتبر دستاویز قرار دیا جا سکتا ہے، جو باذوق قارئین کے لیے ایک علمی نعمت غیر مترقبہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

Kuliat E Hasrat Mohani - کلیات حسرت موہانی New

Kuliat E Hasrat Mohani - کلیات حسرت موہانی

Rs. 1,500.00 ID-00559

یہ کہنے میں شاید ہی کسی کو تامل ہو کہ حضرت کا غزل پر بڑا احسان ہے اور میرے نزدیک جس کا غزل پر احسان ہے۔ اس کا پوری اُردو شاعری اور اُردو زبان پر احسان ہے۔ حضرت نے غزل کی آبرو اس زمانہ میں رکھ لی جب غزل بہت بدنام اور ہر طرف سے نرغہ میں تھی ۔ انھوں نے اُردو غزل کی اہمیت اور عظمت ایک نا معلوم مدت تک منوالی ۔ رشید احمد صدیقی مصحفی ، جرات و مومن کے تغزل میں جو امکانات چھپے ہوئے تھے۔ وہ سب حسرت کی شاعری میں اس طرح پورے ہو گئے کہ اب اس رنگِ شاعری میں ترقی کی گنجائش ہی نہیں رہ گئی۔ حسرت نے ان تینوں رنگوں کو ملا کر ایک رنگ بنا دیا ہے۔ فراق گورکھ پوری حسرت موہانی کی شاعری بھاگتی دھوپ کی شاعری نہیں ۔ شباب کے عنفوان اور نصف النہار کی شاعری ہے جس میں پہلی نگاہیں اور اجنبیت کے مزے ہیں اور ننگے پاؤں کو ٹھے پہ آنے کا دور بھی ہے اور جوانی کے دوسرے تجربے بھی ہیں ۔ حسرت کے ہاں شباب و محبت کے یہ قصے حقیقی ہیں، خیالی نہیں ہیں۔ زندگی کے تجربے معلوم ہوتے ہیں۔ اس لیے ان میں صداقت کی تاثیر اور سچائی کی اکسیر بدرجۂ کمال موجود ہے۔ ڈاکٹر سید عبد الله حسرت موہانی کے عشق میں ایک معصوم سپردگی ، ایک دلکش والہانہ پن ۔ والہانہ پن ہے۔ ایک روحپر در کیفیت ہے جو ایک رومانی احساس رکھتی ہے مگر اس کی رومانیت میں تخیل کی تازہ کاری اور لالہ کاری نے ایک سدا بہار چمن کھلا دیا ہے۔ اس رومانیت میں بلاشبہ اکہراپن اور ہلکا پن بھی ہے۔ یہ تہ دار نہیں ہے اور نہ پیچیدہ ہے مگر جو کچھ ہے ، وہ تخیل ، تجربے، جذبے اور حسن بیان کا بڑا دلکش محلول ہے۔ پروفیسر آل احمد سرور حسرت کی عشقیہ شاعری کا مقابلہ اس دور کے کسی دوسرے شاعر کے کلام سے نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے جذباتی تجربے کی نوعیت بالکل انوکھی ہے۔ اس لیے ان کے کلام میں ایک خاص انفرادیت پائی جاتی ہے۔ انھوں نے اپنے عشق پاک باز کی بدولت اُردو غزل کو ایک نئے قسم کے محبوب سے روشناس کیا ہے جو اُن کی شاعری کی طرح منفرد ہے۔ ڈاکٹر یوسف حسین خان

A collection of two books by Munir Niazi - منیر نیازی کی دو کتابوں کا مجموعہ | Kuliyat Munir Niazi - Kol Kalam New

A collection of two books by Munir Niazi - منیر نیازی کی دو کتابوں کا مجموعہ | Kuliyat Munir Niazi - Kol Kalam

Rs. 2,600.00 ID-00558

A collection of two books by Munir Niazi - منیر نیازی کی دو کتابوں کا مجموعہ | Kuliyat Munir Niazi - Kol Kalam 1: کلیات منیر نیازی 2: کل کلام

Waba - وبا New

Waba - وبا

Rs. 800.00 ID-00557

مرزا مدثر بیگ نے امریکہ سے میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور آپ کنسلٹنٹ کو سموٹالوجسٹ اور میڈیکل سپیشلسٹ ہیں۔ پاکستان سے سپیشلائزیشن اور دوسری امتحانی کامیابیوں میں کئی گولڈ میڈل حاصل کر چکے ہیں۔ ان کا تعلق ایک ادبی خاندان سے ہے، والد اور بہن بھی ادیب تھے۔ بڑے بھائی فلسفی ، ڈرامہ نگار ، ناول نگار سابقہ چیئر مین شعبہ فلسفہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور اور پرائیڈ آف پر فارمنس مرزا اطہر بیگ تو کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ مرز امدثر بیگ میڈیکل کالج میں کالج میگزین کے طالب علم مدیر رہے اور اب بھی پچھلے ہیں سال سے ایک میڈیکل جرنل کے ایڈیٹر ہیں۔ ان کی پہلی کتاب ”سورج ساحل اور سمندر ایک سفرنامے کی صورت میں تھی یہ سفر نامہ، ماہنامہ سرگزشت“ کراچی میں قسط وار چھپتا رہا جو مالدیپ پر لکھا گیا کسی بھی مصنف کا پہلا سفرنامہ تھا، اس کو بہت سراہا گیا۔ دوسری کتاب ان کی شاعری پر مشتمل تھی جسے ” تپتی ریت پر ننگے پاؤں“ کا نام دیا گیا۔ اسے بھی ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل ہوئی۔ ”سراب خواب ناول کے بعد یہ دوسرا ناول ”و ہا“ ہے جس میں کرونا و با کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ ایک مشکل موضوع تھا مگر اس کو مہارت سے ادبی رنگ میں لکھا گیا، یہ کسی بھی فزیشن کا لکھا کرونا و با پر پہلا ناول ہوگا۔

Kyun - Jaun Elia - کیوں - جون ایلیاء New

Kyun - Jaun Elia - کیوں - جون ایلیاء

Rs. 1,000.00 ID-00556

Kyun - کیوں جون ایلیاء شعری

Showing 28-36 of 586 item(s)